27

ججز کیخلاف ریفرنسز پر احتجاج، وکلاء تقسیم ہو گئے

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنسز کے خلاف احتجاج پر وکلاء تقسیم ہو گئے، گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس سلسلے میں آج ملک بھر میں عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ملک کے بیشتر شہروں اور عدالتوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ کچھ شہروں اور عدالتوں میں وکلاء عدالتوں میں پیش بھی ہو رہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے معاملے پر کراچی میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنسز کے معاملے پر وکلاء 2 گروپوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ سٹی کورٹ اور ہائی کورٹ بار میں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کی کال پر آج عدالتوں کی تالہ بندی کی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں جزوی ہڑتال کی جا رہی ہے، عدالتوں میں وکلاء ارجنٹ نوعیت کے مقدمات میں پیش ہو رہے ہیں ۔
وکلاء عدالتوں میں پیش ہو کر مقدمات کو ملتوی کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار پاکستان بار کونسل کی کال پر ہڑتال کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پرسپریم کورٹ بار کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باوجود لاہور کی تمام عدالتوں میں معمول کے مطابق کام جا ری ہے۔ وکلاء دھڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کےجسٹس قاضی فائزعیسی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کی سماعت کے خلاف لاہور میں وکلاء کی ہڑتال نہیں ہوئی۔

گزشتہ روز لاہور ہاثف کورٹ بار ایسو سی ایشن، لاہور بار ایسوسی ایشن اور پنجاب کونسل نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسو سی ایشن کی طرف سے لا تعلقی کے اعلان کے باعث وکلاء عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے ۔

ادھر کوئٹہ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کےخلاف ریفرنس پر بلوچستان ہائی کورٹ کےاحاطے میں وکلاء دھرنا دے رہے ہیں جس میں بلوچستان بار کونسل، ہائی کورٹ بار اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار شریک ہوئے۔ دیربالا میں پاکستان بارکونسل کی اپیل پر جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کےخلاف ڈسٹرکٹ بارمیں مکمل ہڑتالڑ کی جا رہی ہے، وکلاء کسی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، انہوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔

پاکستان بار کونسل کی کال پر سکھر میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا، وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، وکلاء مقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ پنجاب کے شہر گجرات میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار میں جزوی ہڑتال کی گئی، کھاریاں اورسرائے عالمگیر میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال کی گئی جبکہ کچھ وکلاء عدالتوں میں پیش بھی ہوئے۔

اس ضمن میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان الله کنرانی کا کہنا ہے کہ وکلاء کے دونوں بڑے گروپس کے سربراہ ہمارے ساتھ موجود ہیں، آئین و قانون کے لیے سب اکھٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان کے وکلاء نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اتحاد سب دیکھ سکتے ہیں، ہماری جدوجہد عدلیہ کی آزادی کے لیے ہے۔

صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ہماری آواز کو دبایا جاتا ہے، آج آواز دبائیں گے ،کل آپ کو بھگتنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں عدالتیں بند ہیں اور عدالتوں میں سناٹے ہیں، امید ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل آئین و قانون کے مطابق ریفرنس کو واپس کر دے گی، ایک جج کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر صدرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس کی علامتی کاپی کو جلایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں