29

شہنشاہ غزل مہدی حسن کو بچھڑے 7 برس بیت گئے

موسیقی کے آفتاب شہنشاہ غزل مہدی حسن کو اپنے پرستاروں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے تاہم ان کے مقبول ترین گیت اورغزلیں آج بھی ان کے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن بھارت کے شہر راجستھان میں13 جون 1927 میںپیدا ہوئے، مہدی حسن کا تعلق موسیقی کے کلاونت گھرانے کی سولہویں نسل سے تھا۔

مہدی حسن نے فن موسیقی کا آغاز 1952 میں ریڈیو پاکستان کراچی سے کیاجبکہ 5 سال محنت کی بدولت 1957 کو پہلی بارریڈیو پاکستان ہی سے ایک ٹھمری گائی جسے بے حد سراہا گیا ،اس کے بعد مہدی صاحب نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کئی دہائی کےسفر میں مہدی حسن خان نے تقریبا ً 440فلموں کے لیے گانے گائے جن میںگیتوں کی تعدادلگ بھگ 623ہے،اس کے علاوہ انہوں نے 366 اردو فلموں میں 541 اور 74پنجابی فلموں میں 82گیت گائے۔ فلمی گیتوں میں ان کے 100 سے زیادہ گانے صرف اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔

مہدی حسن نے اپنی کیریئر کا پہلا فلمی گیت ’جس نے میرے دل کو درددیا‘ 1962 میں ریلیز ہونے والے فلم ’سسرال‘ میں گایا تھا، جسے بے حد پسند کیا گیا۔انہوں نے مجموعی طور پر 50ہزار سے زائد فلمی وغیرفلمی گیت، نغموںاور غزلوں میں آواز کا جادو جگا یا۔ انہیں بھارت کے سب سے بڑے ثقافتی ایوارڈ سہگل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

مہدی حسن کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نےاُنہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، تمغہ امتیازاور ہلال امتیازسے نوازاجبکہ حکومت نیپال نے مہدی حسن کو گورکھا دکشنا بہو کا اعزاز عطا کیا۔ 13 جون 2012ء کو کراچی میں زندگی کی آخری سانس لی، طویل جدوجہد اپنے اختتام کو پہنچی مگر اپنے کام سے ان کی گہری وابستگی ہمیشہ ان کو چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں