28

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، صارفین کے انٹرنیٹ پر عدم اعتماد کی بڑی وجہ

اسلام آباد: دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کے حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ سائبر جرائم کے بعد سوشل میڈیا کمپنیز صارفین کے انٹرنیٹ پر اعتماد نہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سروے میں حصہ لینے والے 75 فیصد صارفین، جو انٹرنیٹ نیٹ پر بھروسہ نہیں کرتے، نے فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سماجی ویب سائٹس کو بھروسہ نہ کرنے کی وجوہات میں شامل کیا۔

دنیا کے تمام خطوں میں سائبر جرائم کے باعث انٹرنیٹ پر بھروسہ نہ کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ 81 فیصد ہے جبکہ 62 فیصد کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ سیکیورٹی کی کمزور صورتحال بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مذکورہ اعداد و شمار اقوامِ متحدہ کی کانفرنس برائے ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ میں عالمی سروے برائے انٹرنیٹ سیکیورٹی اور اعتماد کے نام سے ایک جائزے کے تحت جاری کیے گئے۔

یہ سروے جو اپنے 5 ویں سال میں داخل ہوچکا ہے انٹرنیٹ سیکیورٹی اور اس پر صارفین کے اعتماد کو جانچنے کے لیے کیا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے جامع سروے ہے جس کا انعقاد 21 دسمبر 2018 سے 10 فروری 2019 کے درمیان کیا گیا۔ مذکورہ سروے میں آسٹریلیا، کینیڈا، مصر، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، کینیا، میکسیکو، نائیجیریا، پاکستان، پولینڈ، روس، ساؤتھ افریقہ، جمہوری کوریا، سویڈن، تیونس، ترکی اور امریکا سے 25 ہزار 229 انٹرنیٹ صارفین نے حصہ لیا۔

سروے میں شامل 50 فیصد صارفین کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر بھروسہ نہ کرنے کے باعث وہ اپنی بہت کم ذاتی معلومات آن لائن شائع کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ 40 فیصد صارفین اپنی ڈیوائسز کو محفوظ بنانے کے لیے بہت احتیاط برتتے ہیں جبکہ 39 فیصد صارفین کے مطابق وہ انٹرنیٹ کافی منتخب انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ تاہم بہت کم صارفین اس سلسلے میں بہتر طریقہ کار مثلاً انکرپشن (19 فیصد) تکنیکی آلات جیسا کے ٹور (دی اونین راؤٹر) یا ورچوئل پرائیویٹ نیٹورکس (12 فیصد) کا استعمال کرت ہیں۔

اسی طرح سروے میں شامل 10 میں سے 8 افراد (78 فیصد) اپنی آن لائن پرائیویسی کی فکر کرتے ہیں جبکہ نصف سے زائد یعنی 53 فیصد کے خدشات میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 48 فیصد صارفین کو یقین ہے کہ حکومت ان کے آن لائن ڈیٹا اور ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھاتی ہےجس میں اعتماد کی سب سے کم شرح شمالی امریکا میں دیکھی گئی جو 38فیصد تھی۔

دوسری جانب دنیا میں ایسے شہریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اپنے ملک کی حکموت کو ہی اپنی پراوئیوسی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ سروے میں شامل 86 فیصد صارفین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کم از کم ایک مرتبہ انٹرنیٹ پر آنے والی جھوٹی خبر پر اعتبار ضرور کیا، 44 فیصد کا کہنا تھا کہ ایسا ان کے ساتھ کبھی کبھار ہوا جبکہ 14 فیصد نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کا واسطہ کبھی جعلی خبر سے پڑا۔

سروے میں سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک جعلی خبروں کا سب سے بڑا ذریعہ قرار پائی اور 77 فیصد صارفین کے مطابق انہوں نے خود فیس بک پر جعلی خبریں دیکھی ہیں جس کے بعد 62 فیصد ٹوئٹر صارفین اور 74 فیصد عمومی سوشل میڈیا صارفین کا واسطہ جعلی خبروں سے پڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں