28

صفر شرح نظام کی واپسی، ایکسپورٹ انڈسٹری پر 17فیصد سیلز ٹیکس لگے گا

اسلام آباد: وفاقی بجٹ سے ایک روز قبل صفر شرح نظام کی بحالی پر ہفتہ اور اتوار کو کراچی اور فیصل آباد کی ایکسپورٹ انڈسٹری اور حکومت کی اقتصادی ٹیم کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے آخری کوششیں ناکام ہوگئیں کیونکہ حکومت نے واضح الفاظ میں بار بار کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے عہد کے تحت صفر شرح سے پیچھے ہٹنے کا اپنا فیصلہ واپس نہیں لے سکتی۔ حکومت نے اس انڈسٹری کو گارنٹڈ ریفنڈ میکانزم میں توسیع سے بھی یہ کہتے ہوئے انکار کردیا ہے کہ میکانزم پر بجٹ کے بعد کام کیا جائے گا۔ حکومت کی اقتصادی ٹیم نے انڈسٹری کو یہ بھی بتایا کہ وہ ٹیکسٹائل، چمڑا، قالین، سرجیکل اور اسپورٹس کی ایکسپورٹ انڈسٹری پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے والی ہے۔ اس سے قبل حکومتی عہدیداران نے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں مذکورہ ایکسپورٹ انڈسٹری پر ساڑھے سات فیصد سیلز ٹیکس پر اتفاق کیا تھا لیکن اتوار کے اجلاس میں اقتصادی ٹیم نے ساڑھے سات فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے سے انکار کردیا اور مذکورہ ایکسپورٹ

انڈسٹری پر 17 فیصل سیلز ٹیکس عائد کرنے کا عزم کیا۔ تاہم حکومت نے آئی ایم ایف سے سخت مذاکرات کے بعد مزید 6 ماہ کیلئے ٹیکسٹائل، قالین، سرجیکل، چمڑا اور اسپورٹس شعبوں کیلئے توانائی پیکج کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیدار اور انڈسٹری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 6 ماہ بعد توانائی پیکج کے تسلسل پر نظرثانی کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاسوں میں کراچی، فیصل آباد اور لاہور سے انڈسٹری کے نمائندوں نے درخواست کی کہ جہاں تک برآمدات کا تعلق ہے تو اس مرحلے پر صفر شرح کی واپسی خطرے سے بھرپور ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں برآمدات میں 20 فیصد مقداریت کے اضافے کے حاصل کیے گئے معیار حرکت کو نقصان پہنچے گا۔ وزارت خزانہ میں سرکاری ذرائع نے بھی دی نیوز کو ایکسپورٹ انڈسٹری کے ساتھ اجلاسوں کی تصدیق کی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ آئی ایم ایف نے بھی حکومت کو ایکسپورٹ انڈسٹری پر ساڑھے سات فیصد تک سیلز ٹیکس کی کمی کی اجازت نہیں دی بلکہ اس نے حکومت کو ہدایت دی کہ مذکورہ انڈسٹری پر 17 فیصد اسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس عائد کرے۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو منانے کے بعد انڈسٹری کو مزید 6 ماہ کیلئے توانائی پیکج جاری رکھنے کا فیصلہ ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اجلاس میں شرکت کرنے والے کراچی کے تاجر زبیر موتی والا نے دی نیوز کو بتایا کہ کراچی کی ایکسپورٹ انڈسٹری صفر شرح کی واپسی کے خلاف آج احتجاج کرے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈسٹری کو یقین نہیں آرہا کہ حکومت ریفنڈ میکانزم پر کیا ضمانت دے گی جیسا کہ ماضی میں وہ اس محاذ پر اپنے بیانات پر کھڑی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس کی مد میں حکومت انڈسٹری کے 51 ارب روپے، قابل واپسی محصول کی مد میں 82 ارب روپے اور کسٹمز رقم کی واپسی کی مد میں مناسب رقم کی مقروض ہے۔ موتی والا کا کہنا تھا کہ حکومت نے کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے عہد کے تحت مجبور ہےاور صفر شرح واپس لینے کا اپنا فیصلہ واپس نہیں لے سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے انڈسٹری خود بخود ختم ہوجائے گی اور اسے بہت بڑے سیالیت (لیکوئیڈیٹی) بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور مزید اہم بات یہ ہے کہ انڈسٹری کمرشل بینکوں سے 14-15 فیصد شرح سود پر قرض نہیں لے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی پریس کلب میں دوپہر ڈھائی بجے پریس بریفنگ کریں گے اور اس کے بعد حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں