80

نان فائلر کا تصور ختم، گاڑی، جائیداد خریدنے پر ازخود فائلر بن جائے گا

اسلام آباد : مالی سال 2019-20ء کے وفاقی بجٹ کی پوسٹ بجٹ بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کےمشیر امورخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ نئے بجٹ میں نان فائلر کا تصور ختم کررہے ہیں ، نان فائلر گاڑی ، جائیداد خریدنے پر ازخود فائلر بن جائے گا، ٹیکسٹائل سیکٹر 1200؍ ارب کا کپڑا بیچ کر 8؍ ارب ٹیکس دیتا ہے ، انہیں کاروبار کرنا ہے تو ٹیکس دیں، معاشی اہداف کےحصول کیلئے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑاتو تیار ہیں ، کسی کو ٹیکس چھوٹ نہیں دی جائے گی ، صوبوں کو 60؍ فیصد دیکر وفاق پہلے دن ہی خسارے میں چلاجاتا ہے، 3000؍ ارب قرضوں کے سود میں دینے پڑتے ہیں، قرضہ جات تحقیقاتی قومی کمیشن کی تشکیل اور ٹی او آرز کا اعلان جلد ہوگا ۔ جبکہ چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی نے کہا کہ نئے ٹیکس غریب نہیں امیر سے لیں گے ، انقلابی اقدامات سے 5555؍ ارب روپے کا ہدف پورا کرکے دکھائین گے، جو امراء ٹیکس نہیں دے رہے انکی

آمدن اور اثاثوں کے شواہد موجود ہیں ۔ اس موقع پر وزیر توانائی عمر ایوب ، وزیر مملکت حماد اظہر اور وفاقی وزیر خسرو بختیار بھی موجود تھے ۔ تفصیلات کےمطابق بدھ کو بعد ازبجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کےمشیر امور خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہےکہ قرضہ جات تحقیقاتی قومی کمیشن جلد قائم ہو گا ،31؍ ہزار ارب روپے کے قرضوں کے حصول اور انہیں خرچ کئے جانے کا قومی انکوائری کمیشن قائم کرنا وزیراعظم عمران خان کا صوابدیدی اختیار ہے، اس کے ٹرمز آف ریفرنس اور اس کی تشکیل کا باضابطہ اعلان جلد ہوگا،کوئی سیاسی رہنما بجٹ کو آئی ایم ایف یا عالمی بنک کا کہے یہ ان کی سوچ ہے حقائق جلد سامنے آ جائیں گے۔یہ کوئی مذاق نہیں ہے کہ ایف بی آر چار ہزار ارب روپے کا ٹیکس عوام سے وصول کر لے مگر اس میں سے 3؍ ہزار ارب روپے قرضوں کے سالانہ سود کی مد میں دیدے۔ پاکستان میں بجلی کا سرکولر ڈیٹ 11؍ سو ارب روپے ہوگیا ہے ہر ماہ اس میں 38؍ ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ آئندہ سال 31؍ دسمبر تک پی ٹی آئی حکومت سرکلر ڈیٹ صفر کر دی گی۔ فاٹا کے حوالے سے 152؍ ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج کر دیا گیا ہے۔ اس میں سے 83؍ ارب براہ راست ترقیاتی کاموں پر دیانتداری سے خرچ ہوں گے۔ قومی سلامتی، قومی یکجہتی دشمنوں کے چیلنجوں کے باوجود مسلح افواج نے نئے وفاقی بجٹ سے 172؍ ارب روپے کا ڈیفنس بجٹ نہیں لیا۔ مسلح افواج ملکی دفاعی صلاحیت پر اس کے باوجود آنچ نہیں آنے دیں گی۔ مسلح افواج نے 172 ارب روپے کی جو قربانی غریب عوام کیلئے دی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ کے پی کے نے 48؍ ارب روپے اپنا پیٹ کاٹ کر فاٹا کیلئے دیئے ہیں۔ اس طرح فاٹا میں دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے علاقے میں اسکول، کالج، اسپتال، سڑکیں اور انفراسٹرکچر تعمیر ہوگا۔ انڈسٹری کیلئے بجلی کے ٹیرف میں ساڑھے سات سینٹ فی یونٹ اور گیس کے ٹیرف 6.5؍ سینٹ فی یونٹ سبسڈی فراہم کریں گے۔ انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی بینکوں کے اکائونٹس ہولڈرز کی تعداد 5 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں سے صرف 10 لاکھ اکائونٹ ہولڈر سالانہ ٹیکس گوشوارہ جمع کرا رہے ہیں۔ 30 جون 2019 تک ایف بی آر 42,41 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرنے جارہا ہے اس کا 80 فیصد حصہ صرف 380 کمپنیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلی حکومت نے 31 مئی 2018 کو آئینی معیاد پوری کرنے سے قبل دیئے گئے بجٹ میں 12 لاکھ روپے سالانہ آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ کر دیا تھا جس سے آدھے ٹیکس گزار ٹیکس نیٹ سے نکل گئے۔ سوالوں کے جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے 6 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے کو ٹیکس سے مستثنیٰ کر دیا ہے اور اس سے اوپر کی آمدنی والوں پر پیشرو حکومت نے بہت کم ٹیکس عائد کیا ہے۔ چینی کی قیمت 80؍ روپے کلو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شوگر کی قیمت میں اضافہ میں unregister اور کمیشن ایجنٹ شامل ہیں۔ انہوں نے یہ ہوائی قیمت بنائی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ 30 جون 2019 تک 41 سو ارب روپے کے ٹیکس جمع ہونے کا تخمینہ ہے۔ نئے وفاقی بجٹ میں ایف بی آر کو 5555 ارب کے ٹیکس جمع کرنے کا ٹارگٹ جو ملا ہے اسے پورا کرنے کیلئے ایف بی آر انقلابی اقدامات کرکے 11 سو ارب کے اضافی ٹیکس جمع کر دکھائے گا، جو سیکٹر ٹیکس نہیں دے رہے جو امراء پورا ٹیکس ادا نہیں کر رہے ان کی آمدنی اور اثاثوں کے بارے میں ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں جو کسی سابقہ حکومت کے پاس نہیں تھے۔ اس طرح 250 ارب کا گیپ پورا کریں گے۔ انہوں نے نئے بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ہم نئے ٹیکس غریب سے نہیں امیر سے لیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو قرضے لئے ہیں یا لے گی ان کا صحیح استعمال نہ ہوا تو پی ٹی آئی حکومت کا بھی احتساب ہوگا۔ عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ کچھ خرچے ہم روک نہیں سکتے، آئینی طور پر صوبوں کو ہم نے جو رقوم دینی ہیں وہ نہیں روکی جاسکتیں، اپنی اقتصادی ٹیم کے تمام ارکان کی موجودگی میں میڈیا کانفرنس میں بتایا کہ ہم 3؍ چیزیں کم کرسکتے ہیں۔ سرکاری اخراجات ہم نے کم کرنا شروع کر دیئے ہیں ہر سال ڈیفنس بجٹ میں اضافہ ہوتا چلا آیا ہے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے بتایا کہ 216 ارب کی سبسڈی ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے تحفظ کیلئے مخصوص کی گئی ہے۔ پاکستان میں بجلی صارفین میں یہ 75 فیصد لوگ ہیں نیپرا کے ریٹ سے نصف ریٹ پر زرعی ٹیوب ویل کو بجلی دینگے۔ عمر ایوب نے کہا کہ وزیراعظم کا کوئی کیمپ آفس نہیں ہے وہ بنی گالا کے گھر میں ہی رہتے ہیں اپنے گھر کی بجلی گیس سمیت تمام اخراجات خود برداشت کرتے ہیں انہوں نے اپنے گھر تک سڑک خود بنوائی ہے ہم فاٹا، بلوچستان، سندھ، کے پی کے، جنوبی پنجاب کے 300 یونٹ تک کے صارفین کو سبسڈی فراہم کریں گے۔ عمر ایوب سے پوچھا گیا کہ اب بجلی کے ریٹ جولائی میں کیا بڑھائیں گے تو انہوں نے کہا علم نجوم میرے پاس نہیں ہے اس کا انحصار انٹرنیشنل آئل پرائس پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں