13

موسمی تغیرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے

دنیا آج موسمی تغیرات کی زد میں ہے ، بدلتے موسموں نے دنیا بھر کی زندگیوں پر اپنے اثرات چھوڑنے شروع کر دیے ہیں،یہی وجہ ہے کہ سردی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے تو گرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں ۔ دنیا میں آج سب سے بڑا مسئلہ پینے کے پانی اور اس کی نکاسی کا ہے ۔پینے کے پانی اور نکاسی آب کے حوالے سے دنیابھر کے جائزے پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اورپانی بنتی برف کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
یونیسف اور عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا کے کئی اداروںاور این جی اورز کی رپورٹوں کے علاوہ سرکاری دستاویزات اور منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔پا کستان کے شہروں میں 26فیصد اور مجموعی طور پر34فیصد افراد کو نکاسی آب کی مکمل سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے مطابق پانی کے علاوہ ہمیں انسانی فضلے کو ٹھکانے لگانے میں بھی ناکامی کا سامنا ہے اگلے چند برسوں میں آسٹریلیا، پاکستان اور بھارت سمیت کئی دوسرے ممالک میں پانی کی شدید قلت رونما ہو سکتی ہے۔ ا س وقت بھی دنیاکی آبادی کا تیسرا حصہ یعنی 2.2باشندے بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافے پر قابو پانا ہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ گندے اور آمیزش والے پانی سے بیماریاں جنم لے رہی ہیں،جن پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان سمیت درجنوں ممالک میں گندے پانی سے پیدا شدہ بیماریوں کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔
اس سلسلے کی دوسری رپورٹ کی تیاری کا کام ستمبر میں شروع کر دیا گیا ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دنیا نے بلدیاتی سہولتوں کی عدم فراہمی اور پانی کی کمی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس کی دیکھ بھال اور ترقی دینے میں ناصرف ناکام رہی ہے بلکہ کئی ممالک میں وسائل کا بے دریغ ضیاع ان ممالک میں بدترین صورتحال کو وقت سے پہلے بھی لا سکتا ہے۔نکاسی آب اورٹائلٹ کا فقدان اور کیمیکلز ملا پانی امیر اور غریب کے فرق میں اضافے کا موجب بھی بن رہا ہے۔
غریب اپنی کمائی علاج پر بھی خرچ کرنے پر مجبور ہے۔پاکستان سمیت کئی ممالک میںحفظان صحت کی سہولتوں کی کمی غربت اور معاشی ناہمواری میں اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔ 2000ءسے 2019ءتک ان برسوں میں دنیا نے صاف پانی کی فراہمی پر کافی توجہ دی ہے۔صاف اور صحت مند پانی پینے والوں کی تعداد 61فیصد سے بڑھ کر 71فیصد ہو گئی ہے۔ مگر یہ کام چند ممالک میں ہی بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔جس سے عالمی اشاریے بہتر ہو گئے ہیں۔
اگرچہ اس موضوع پر عالمی ادارہ صحت اور یونیسف نے کھل کر با ت تونہیں کی لیکن ہمارے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوں گے جنہیں ہر منصوبے میں مقامی اور علاقائی مسائل کا سامناہے۔تاہم پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیاگیا ہے جنہوں نے گزشتہ 17برسوں میں نکاسی آب کے شعبے میں نمایاں کاردگی دکھائی ہے،یہاں مزید 29فیصد افراد کو نکاسی آب کی سہولت ملی ہے،جبکہ کہ کئی ممالک میں یہ تناسب 21فیصد ہے۔
اس شعبے میں پاکستان بھارت سے بھی بہتر پوزیشن میں ہے۔ہاتھ کی صفائی دُنیا بھر میں مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس کو دور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ گندے ہاتھوں پر لگے جراثیم کئی بیماریوں کا موجب بن رہے ہیں۔منہ، پیٹ اور آنتوںکی بیماریاں اسی وجہ سے عام ہوتی جارہی ہیں۔ اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کئی وائرس اور بیکٹیریا عام انٹی باﺅٹکس کے بے تحاشا استعمال کے باعث ان کے عادی ہو رہے ہیں۔ لہٰذا مستقبل میں پیٹ کی عام بیماری کا علاج بھی مہنگی ادویات سے کرنا پڑے گا۔
پینے کے پانی میں کیمیکلز کی آمیزش کئی امراض کو دعوت دے رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود بیماریاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے پانی میں فلورائیڈ اور آرسینک کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے۔بنگلہ دیش میں چار کروڑ اور پاکستان میںایک کروڑ افراد عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ فلورائیڈ کی مقدار سے کہیں زیادہ ملاوٹ والا پانی پی رہے ہیں۔
ہنگری کے لوگوں بھی فلورائیڈ والا پانی پیتے ہیں مگر وہاں ان کی تعداد صرف 4.9فیصد ہے۔ہمارے ہاں ایسا پانی پینے والوں کی تعداد حدسے زیادہ ہے۔
یونیسف اور عالمی ا دارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے شہروں میں 26فیصد افراد کو نکاسی آب کی مکمل سہولتیں دستیاب نہیں ہیں ،ملک میں مجموعی طور پر یہ تناسب 34فیصد ہے۔
جہاں تک صاف پانی کی فراہمی کا تعلق ہے تو دنیا بھر میں 2.2ارب افراد کو صاف پانی میسر نہیں۔ہمیں مجموعی طور پر گزشتہ کئی برسوں میں 1.23ارب مکعب میٹر پانی سالانہ ملا ہے۔اس میں بھی سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم زیادہ تر دریائی پانی تین سے چار مہینوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔کیونکہ برف بھی ان تین چار مہینوں میں ہی زیادہ پگھلتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ زیادہ تر پانی(کوئی 70سے 80 فیصدتک)گلیشیئرز کے پگھلنے سے ملتا ہے۔ اگرباقی مہینوں میںبارشیں کم ہونے یا برف نہ پگھلنے سے ہمارے دریا خشک ہی رہتے ہیں۔گرمی دیر سے پڑنے کی صورت میں خشک سالی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ڈیمز بھرنے کے لیے حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے تاکہ کمی کے وقت اسے بہترین انداز میں استعما ل کیا جا سکے۔
ہم نے عالمی اداروں کی خواہش اور اپنی ضروریات کا خیال نہیں کیا۔کچھ منصوبے ضرور بنائے ہیں جن پر نیک نیتی اور تیزی سے عمل درآمد درکار ہے۔ہم منصوبے بنا لیتے ہیں مگر پھر انہیںخود ہی متنازع بنا کر تاخیر کا شکار کر دیتے ہیں۔ اگر ہم نے وقت کی بدلتی ہوئی ضرورتوں کو محسوس نہ کیا تو پھر بقول شاعر
”ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں