29

خسرہ جسم کا دفاعی نظام کمزور کرکے مزید امراض کی وجہ بن سکتا ہے

ہالینڈ: ہالینڈ میں کئے گئے دو اہم مطالعات سے معلوم ہوا ہےکہ بچوں میں خسرہ کی بیماری ان پر طویل اثرات مرتب کرتی ہے یہاں تک کہ ان کا فطری امنیاتی نظام کمزور ہوکر دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ یہ ایک پریشان کن خبر ہے کیونکہ یورپ اور افریقہ میں 2006 کے بعد سے خسرے کے واقعات میں کئ گنا اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2017 میں ہی پوری دنیا میں خسرے کے 70 لاکھ مزید کیس سامنے آئے ہیں۔ لیکن 2018میں ان کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے ۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس کی وجہ ویکسین سے بیزاری کی اس حالیہ لہر کو قرار دیا ہے جو ایشیا سے لے کر یورپ تک جاری ہے۔ تاہم غریب ممالک میں ویکسین کی رسائی اور نقل و حمل کے اپنے مسائل بھی موجود ہیں۔ 2015 میں ایک سائنسداں ڈاکٹر مائیکل مینا نے نے ایک سروے کےبعد کہا تھا کہ جو بچے خسرے کے شکار ہوتے ہیں وہ آگے چل کر دیگر کئی امراض کے شکار ہوتے ہیں اوران میں سے نصف تعداد کسی اور بیماری کے انفیکشن کی شکار ہوکر مرجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 میں ایک لاکھ بچوں کی اموات خسرے یا اس کے بعد کسی اور مرض میں مبتلا ہونے سے واقع ہوئی ہیں۔ لیکن ماہرین کے خیال میں اس کی شرح بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خسرے بچے کے جسم میں ان خلیات کو ختم کردیتے ہیں جو مختلف امراض کے جراثیم کے ردِ عمل میں ان سے لڑنے کی اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا ۔ پروفیسر مائیکل نے ہالینڈ میں 77 بچوں کو منتخب کیا جنہوں نے خسرے کے خلاف ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔ کئی ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ بچے اپنے جسم میں خسرے سے قبل کئی امراض کے خلاف اینٹی باڈیز بنارہے تھے لیکن خسرے میں مبتلا ہونے کے بعد ان میں اینٹی باڈیز کا کوٹہ ختم ہوگیا جس کی شرح 11 سے 74 فیصد تھی یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی دفاعی نظام 74 فیصد کمزور ہوچکا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ ان بچوں کو دوبارہ خسرے کی ویکسین دی جائے تاکہ امنیاتی نظام پیدا ہوسکے۔ یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم کے ایک اور سائنسداں پروفیسر کولِن رسل نے ایسی ہی کیفیت میں مبتلا 20 بچوں کے ڈی این اے کا جائزہ لیا۔ ان کے جسم میں امنیاتی خلیات بے حس اور بے کار بیٹھے تھے اور کسی بھی بیماری سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ اس اہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خسرہ جیسا مرض بچوں کو کئی امراض کا شکار کرسکتا ہے اسی لیے اس مرض کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں