جاپانی حکومت نے سمارٹ فونز کو نوجوانوں کی آنکھوں کی خرابی کا ذمہ دار قرار دے دیا

جاپانی حکومت  کا خیال ہے کہ سمارٹ فونز کی وجہ سے نوجوان طلباء کی آنکھیں کافی متاثر ہو رہی ہیں۔جاپان کی منسٹری آف ایجوکیشن، کلچر، سپورٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  کے سروے سے پتا چلا ہے کہ  بہت سے نوجوانوں کی نظر معیاری سکور  1.0 (20/20) سے کافی کم ہے۔ایسے طلباء کی تعداد اس وقت سب سے زیادہ یعنی 25.3 فیصد ہے۔  سروے سے پتا چلا کہ 67 فیصد ہائی سکول اور 34فیصد ایلیمنٹری سکول کے طلباء کی  بصارت  کمزور پائی گئی۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان طلباء کی بصارت موبائل فون کی سکرین دیکھتے رہنے اور موبائل گیمز کھیلنے کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے۔
جاپان میں موبائل گیمز کے شائقین کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ جاپان دنیا کی تیسری بڑی گیمنگ مارکیٹ ہے۔ جاپان کے گیمز کی شائقین میں 41 مرد اور32 فیصد عورتیں ہیں۔ماہرین  زیادہ دیر تک موبائل کی نیلی روشنی دیکھنے  سے تو منع کرتے ہیں لیکن زیادہ دیر تک موبائل کو سکرین کو دیکھنے سے بصارت کس حد تک کمزور ہوتی ہے، اس بارے میں کوئی حتمی تحقیق سامنے نہیں آئی۔

موبائل گیمز سے صرف جاپانی حکومت ہی پریشان نہیں۔ دنیا میں گیمز کی سب سے بڑی مارکیٹ چین میں بھی حکومت اس حوالے سے کافی پریشان ہے۔ چینی حکومت نے تو آن لائن گیمز، نئی ریلیز اور گیمنگ ٹائم محدود کرنے کے لیے قانون سازی بھی کی ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں ایسے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے، جن کی قریب کی نظر متاثر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.